ھوتا ھے شب وروز تماشہ میرے آگے

جب ھم چھوٹے تھے تو اکثر گلی میں بندر اور ریچھ کا تماشہ دکھانے والے آتے تھے، ھم اپنے تمام کام چھوڑ کر جم کر گلی میں کھڑے ھوجاتے تھے اور مزے لےلے کر تماشہ دیکھا کرتے تھے۔
.
بندر کا مالک کبھی بندر کو “سسرال” جانے کا کہتا تو بندر مزے سے اچک اچک کر سیٹیاں بجاتا دونوں ھاتھ پشت پر باندھے سسرال جانے کی ایکٹنگ کرتا، کبھی شاھی سواری پر بادشاہ کی طرح بیٹھنے کا کہتا تو بندر اچک کر ریچھ کی پشت پر بیٹھ جاتا اور ریچھ بیچارہ اسے اپنی پیٹھ پر بٹھائے 2-3 چکر لگالیتا تھا، کبھی بکری کو ایک چھوٹے سے ٹن کے ڈبّے پر چاروں ھاتھوں پیروں سے کھڑے ھونے کا حکم ملتا تو چھوٹی سے بکری بیچاری حکم بجالاتی، کبھی ریچھ کو دو پیروں پر کھڑے ھونے کا حکم ملتا تو ریچھ کے پاس سوائے حکم ماننے کے کوئی چارہ نا ھوتاتھا!
.
ان بےزبان جانورں کو پتا تھا کہ ان کی روٹی انکے مالک کے زریعے انکے پیٹ تک پہنچتی ھے، یہ جانور جانتے تھے کہ یہ غلام بنالیئے گئے ھیں، ان جانورں کی خواہش یاضرورت بس اتنی ھوتی ھے کہ انکا پیٹ وقت پر بھر جائے چاھے اسکے لیئے یہ ساری زندگی اسی طرح اپنے مالک کے حکم پر تماشہ دکھاتے رھیں!
.
غور کریں، کیا ھمارے ملک کے حکمران اور شاھی طبقہ، یعنی جاگیردار، صنعتکار، نوکرشاھی کے اھلکار، سیاستدان، نام نہاد مذھبی رھنما اور جرنیل سب ھی جانورں کے مالک اور انکے زرخرید غلام، سیاسی اور مذھبی کارکنان ان جانوروں کی طرح انکے احکامات پر نہیں ناچ رھے ھیں، اور ساری پاکستانی عوام ان معصوم بچوں کی طرح محض تماشہ دیکھ رھی، اپنا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع کررھی ھے?
.
لیکن آخر کب تک، وقت کے ساتھ ساتھ بچّے بڑے ھوگئے، جب تعلیم، روزی روٹی اور گھرداری کی زمّہ داریاں سر پر پڑیں تو ان کھیل تماشوں کی حقیقت بھی خود ھی سمجھ آگئی! آج بھی تماشہ دکھانے والے اپنے جانوروں کے ساتھ گلی میں آتے ھیں، وھی بکری وھی بندر اور وھی ریچھ ساتھ ھوتے ھیں، بندر کی وھی سسرال جانے کی ایکٹنگ، بکری کی وھی ایک چھوٹے سے ڈبّے پر چاروں ھاتھوں اور پیروں سے کھڑے ھونے کی کوشش، اور ریچھ بیچارہ آج بھی شاھی سواری کا کام سر انجام دے رھا ھے، کچھ بھی تو نہیں بدلا، ھاں اگر کچھ بدلا ھے تو معصوم بچّوں کے سوچنے کا انداز، کیوںکہ اب وہ معصوم بچّے نہیں سمجھدار بڑے ھوچکے ھیں اور ان کھیل تماشوں کی حقیقت سمجھ چکے ھیں!
.
کیا پاکستانی عوام بھی اپنے بچپن سے سفر کرتے کرتے سمجھداری کی عمر کوپہنچی ھے یا نہیں? شائد نہیں کیوں کے یہ سیاسی اور مذھبی مداری آج بھی اپنے حواری جانوروں کے ساتھ اپنے اپنے کھیل تماشوں میں مشغول ھیں، کچھ بھی تو نہیں بدلا، وھی برسوں پرانے تماشے آج بھی دکھائے جارھے ھیں، پاکستانی عوام عمر میں تو ساٹھ سال سے بھی زیادہ ھوگئی ھے لیکن زھنی طور پر آج بھی اپنے ابتدائی ایّام میں ھی ھے، پاکستانی عوام کا یہ بچپن، بلکہ صاف لفظوں میں بےوقوفی اور ناسمجھی کی عمر ساٹھ سالوں پر محیط ھوگئی ھے! لیکن آج بھی وہ اپنے سارے ضروری کام چھوڑ کر یہ کھیل تماشے چپ کرکے دیکھتی ھے اور بجائے اپنے گھر کی حالت سدھارنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کے ان کھیل تماشوں میں اپنی عمریں ضائع کررھی ھے!
.
گلی میں آنے والے بندر، ریچھ، بکری اور انکے مالک کو تو نیئے تماش بین تلاش کرنے پڑیںگے، آنے والی نئی نسل کے بچّوں کو اپنا تماش بین بنانا پڑےگا، پچھلے تماش بین تو ھوشیار اور اپنے کاموں میں مگن ھوگئے ھیں، لیکن کیا پاکستان میں قومی سطح کے جانوروں اور انکے مالکوں کو نئے تماش بین ڈھونڈنے پڑینگے? شائد نہیں کیوں کہ ابھی تک پچھلی نسل ھی بڑی نہیں ھوئی، گزشتہ نسل ھی ابھی تک تماشہ دکھانے والوں کے سحر میں گم ھے!
.
یاخدا! اس نسل سے تو کوئی امیّد نہیں کم از کم آنے والی نوجوان نسل کو ھی انکے قیمتی وقت اور ان کھیل تماشوں کی حقیقت کا ادراک دے دے! آمین!
.
بازیچہء اطفال ھے دنیا میرے آگے

ھوتا ھے شب وروز تماشہ میرے آگے
.
.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s