Monthly Archives: April 2011

قافلہ بنتا گیا – ایک سچّی آپ بیتی

بیٹا تو فکر نا کر سب ٹھیک ھوجائےگا، اب ان ظالموں کی رسّی کھیچنے والے آگئے ھیں، اللہ نے الطاف حسین کی صورت میں ان ظالموں کی موت بھیج دی ھے اب یہ سارے بھاگیں گے!

.

کھانا کھاتے ھوئے میں اپنے خیالات میں گم تھا اور پچھلی میز پر بیٹھے شخص کی گفتگو کے آخری مکالمے پر چونک کر جب میں نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا تو مزید حیرت ھوئی، اس شخص کا حلیہ ویسا ھی تھا جیسا عام طور پر مزدوری کرنے والے کسی شخص کا ھوسکتا ھے، اپنے حلیئے اور بات چیت کے اسٹائل سے وہ پنجاب کے کسی دیہات کا رھایئشی لگ رھا تھا۔ میری دلچسپی کی وجہ اسکا حلیہ یا بات چیت کا اسٹائل نہیں تھا بلکہ اسکا وہ آخری جملہ تھا جو فون پر اس نے اپنی فیملی سے بات کرتے ھوئے ادا کیا تھا۔

.

میں کھانا کھا کر فارغ ھوچکا تھا، جیسے ھی میں نے واش روم میں ھاتھ دھونے کی نیت سے اپنی جگہ چھوڑی اسی وقت وہ بھی سیدھا واش روم کی جانب بڑھا، دروازے پر اتنی ھی گنجایئش تھی کہ ایک وقت میں ایک ھی آدمی داخل ھوسکے۔ چوںکہ وہ عمر میں مجھ سے کافی بڑا تھا تو میں نے احتراما” اسے پہلے موقعہ دیا، عمر کے بڑے فرق کے باوجود اس نے پہلے داخل ھونے سے انکار کردیا اور کہا کہ پہلے آپکا حق ھے، میرے اصرار کے باوجود اس نے پہلے جانے سے انکار کردیا، بہرحال میں واش روم میں داخل ھوا، ہاتھ دھوکر واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھا اتنی دیر میں وہ بھی واپس آتا نظر آیا۔ میں نے ایک ھلکی سی مسکراھٹ کے ساتھ اسکی طرف دیکھا اور اسکو اپنے ساتھ چایئے پینے کی آفر دی، جسے اس نے اس شرط کے ساتھ قبول کرلیا کہ چائے اسکی طرف سے پی جائےگی۔ جسے ناچاھتے ھوئے بھی مجھے ماننا پڑا۔

.

جتنی دیر میں چائے آتی ھم تعرف کے مراحل طے کرچکے تھے، اس نے مجھ سے نام، کام، اور تعلیم وغیرہ کے بارے میں سوالات کیئے مگر زاتی نوعیت کے سوالات سے گریز کیا، میں نے بس اسکا نام، اور مصروفیات پوچھیں، جسکے جواب میں اس نے نا صرم دونوں چیزیں مجھے بتایئں بلکہ یہ کہہ کر مجھے مزید حیرت میں ڈال دیا کہ اس سے پہلے کہ آپ مجھ سے میری اس بات کی تفصیل جاننا چاھیں جو میں نے اپنے بیٹے سے بات کرتے ھوئے کہی تھی میں آپکو خود ھی سب بتا دیتاھوں۔

اسکے بعد کی کہانی گو کہ وھی روائتی کہانیوں جیسی ھی ھے جیسی عام طور پر پنجاب کے کسی گاؤں کے غریب مزارعے کی ھوا کرتی ھے، لیکن اس کہانی کا انجام عام کہانیوں سے بالکل مختلف ھے! آئیے جانتے ھیں ایک سچی کہانی عبدالقادر کی جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں جمال پورہ کا رھنے والا ھے (اخلاق تقاضوں کے پیش نظر اس میں افراد اور جگہوں کے نام تبدیل کردیئے گئے ھیں)۔

.

یہ 1986 کی بات ھے جب میرے بیٹے نے پرایئمری اسکول کی تعلیم مکمّل کرنے کے بعد مزید پڑھنے کی خواھش کا اظہار کیا، مگر اسکی خواھش کو پورا کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی، میں ایک غریب مزارعہ تھا جسکے باپ دادا اور پردادا سب ھی اپنے علاقے کے جاگیردار اور انکے آباءواجداد کی چاکری کرتے آئے تھے۔ نا تو میرے پاس اتنے پیسے تھے اور نا ھی مجھے مقامی جاگیردار سے اس کام کی اجازت ملتی، ھمیں تو علاج معالجہ تک کے لیئے گھریلو ٹوٹکوں پر تکیہ کرنا پڑتا تھا کیوں کہ ایک تو شھر جا کر علاج کروانا ایک بڑی عیّاشی سمجھی جاتی تھی اور اس پر یہ کہ شھر جانے کے لیئے چوھدری سے اجازات کون دلوائے یہ بھی ایک بڑا مسئلہ تھا۔

.

لیکن لاڈلے بیٹے کی ضد کے آگے مجبور ھوکر پہلی مرتبہ ڈرتے ڈرے چوھدری سے زکر کیا، پھر تو جیسے زلزلہ آگیا، چوھدری دلاور سے زیادہ اسکے نوجوان بیٹے چیخ رھے تھے اور مجھے میری اوقات بتا رھے تھے۔ چوھدری دلاور نے اپنی سرخ آنکھوں سے انہیں چپ کروا کر مجھ سے پوچھا، کہ میرے باپ نے قرضے کی مد میں لی گئی رقم سے کتنی چکادی تھی جب اسکا انتقال ھوا تھا اور ابھی اور کتنی رقم باقی ھے اور اس پر سود کتنا ادا کرنا ھے، میں ایک جاھل آدمی یہ سارے حساب کیا بتاتا، میں بےبسی سے بس چوھدری کی طرف دیکھتا رھا اور بس اتنا ھی کہہ سکا کے چوھدری صاحب میں چٹّا جاھل آدمی یہ حساب کتاب میرے بس کی بات نہیں آپ خود ھی بتا دیں، جواب میں چوھدری نے تقریبا” اتنی ھی رقم کا حساب بتا دیا جو آج سے تقریبا” 1 سال پہلے عید پر اپنے بچّوں کے نئے کپڑے بنانے کے لیئے کچھ پیسے مانگتے ھوئے مجھے بتایا گیا تھا۔

.

مایوسیوں کا بوجھ سر پر لیئے جب میں واپس گھر آیا تو بیٹابھاگتا ھوا میری طرف آیا، اسکے چہرے پر عجیب اشتیاق تھا جیسے اسکو یقین ھوکہ اس بات کی اجازت تو لازما” ملےگی، اسکا پرامید چہرہ دیکھ کر میرا چہرہ مزید دھواں دھواں ھوگیا، مجھ سے اسکی امید نہیں توڑی گئی بس اتنا کہا کہ بیٹا ابھی چوھدری کچھ مصروف ھے وہ بعد میں جواب دےگا، بیٹے کے لیئے اتنا بھی کافی تھا اسکا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا، میں نے اس بات کے پیش نظر کے وہ گاؤں میں اپنے دوستوں میں اس بات کا زکر نا کرنا شروع کردے کہ چوھدری نے اسکو شھر جاکر پڑھنے کی اجازت دے دی ھے اسکو پہلے ھی تنبیہ کردی کے اجازت اس شرط پر ملی ھے کہ اس بات کا زکر کسی اور سے نہیں کیا جائےگا۔ بیٹے کو کسی طرح ٹال کر میں سونے کے لیئے لیٹ گا بس

.

زھن میں یہی خیال تھا کہ کسی طرح یہ جھوٹا آسرا سچ ھوجائے اور میرا بیٹا تعلیم حاصل کرنے شھر جاسکے۔

کہتے ھیں کہ جب کسی چیز کی شدّت سے خواھش ھو تو اللہ بھی راستے دکھا دیتا ھے، سوکر اٹھا تو زھن میں ایک خاکہ سا تیاّر ھوچکا تھا، بس تھوڑی ھوشیاری سے کام لینا پڑتا باقی کا کام بھی آسان ھوجاتا۔ اس کام کے لیئے جمعرات کے دن کا انتخاب کیا کیونکہ اس دن بڑا چوھدری جانوروں اور پرندوں کے شکار پر اور چھوٹے دونوں چوھدری انسانوں کے شکار پر نکلے ھوتے تھے۔ اگر کوئی پوچھتا تو اسکو یہی بتانا پڑتا کہ بیٹے کی طبعیت اچانک خراب ھوگئ ھے اور چوھدریوں سے اجازت لینے کے لیئے 2 دن کا انتظار کرنا پڑےگا، اسی لیئے ابھی تو بیٹے کولے کر شھر کے بڑے ھسپتال جارھا ھوں اور واپسی پر چوھدریوں کو بتادوںگا۔

زھن میں اپنے منصوبے پر خود کو داد دیتا میں جمعرات کی دوپہر ھی بیٹے کو لے کر شھر کی طرف نکل پڑا، اور بیٹے کو سمجھا دیا کہ اگر کوئی روک کر بات کرے تو اسا ظاھر کرنا جیسے پیٹ میں شدید درد ھو ورنہ اسکو شک پڑگیا تو چوھدری ناراض ھونگے، بیٹے نے زیادہ سوال جواب نہیں کیئے اسکو شائد شھر جاکر پڑھنے کی اتنی خوشی تھی کے وہ ان معاملات میں نہیں پڑنا چاھتا تھا۔

.

ھم دونوں بات بیٹے خوشی خوشی گاؤں سے روانہ ھوگئے اور شھر میں اس ڈاکٹر کے دواخانے پر پہنچ گئے جو ایک دفعہ ایک

سرکاری ٹیم کے ساتھ گاؤں کے واحد کلینک پر آیا تھا اور کچھ ھی دنوں میں چوھدریوں کی درندگی کا شکار ھوکر زخمی حالت میں گاؤں سے فرار ھوگیا تھا، اسکو فرار میں مدد دینے اور اسکی جان بچانے کی وجہ سے وہ اتنا احسان مند ھوا کہ اس نے ایک پرچے پر اپنا نام اور پتہ لکھ کردیا اور کہا کہ زندگی میں اگر کبھی شھر آنا ھو تو سیدھے میرے گھر پر آجانا، میرے بس میں جو ھوگا وہ میں تمھارے لیئے کروںگا۔ اور آج میرے پاس اس بڑے شھر میں اسکے علاوہ کوئی شناسا نہیں تھا۔

.

ادھر شھر میں اس ڈاکٹر کی زریعے اللہ نے ھماری تمام مشکلات آسان کردی تھیں، لیکن کسے پتا تھا کہ اپنی ایک چھوٹی سے جائز خواھش کو پورا کرنے کے لیئے اٹھائے گئے ایک قدم سے ھم کس عزاب کا شکار ھونے جارھے ھیں۔ میری غیر موجودگی میں میرے دو چھوٹے لڑکے زمینوں پر مزدوری کرتو رھے تھے لیکن 2 سال کی چھوٹی بچّی کو چھوڑ کر بیوی چوھدریوں کی عورتوں کی خدمت پر نہیں جاسکتی تھی، عام حالات میں تینوں لڑکے یا میں خود بیوی کی غیر موجودگی میں چھوٹی بچّی کو سنبھال لیتا تھا، لیکن میری غیر موجودگی کی وجہ سے جب بیوی 2 دین حویلی نہیں گئی تو چوھدریوں کی عورتوں نے ناصرف ھنگامہ کھڑا کردیا بلکہ ایک ملازم کو بھیج کر میری بیوی سے حویلی ناآنے کی وجہ دریافت کی، بیوی نے منصوبے کے مطابق بڑے بیٹے کی بیماری اور ھماری اچانک شھر روانگی کا قصّہ سنادیا۔

.

کہتے ھیں کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ھے، لیکن یہی انسان جب جانور بننے پر آجائے تو خوفناک درندے بھی شرما جایئں اور ابلیس خوشی سے بغلیں بجائے۔ چوھدریوں کو واپسی پر جب اس قصّے کا علم ھوا تو انہیں نے ناصرف میرے دونوں چھوٹے لڑکوں کو زمینوں پر سے بلوالیا بلکہ گھر سے میری بیوی اور 2 سال کی چھوٹی بچّی کو بھی اٹھا کر لے گئے۔ چوھدری دلاور کے کارندوں نے شاھ سے زیادہ شاھ کی وفاداری کا مظاھرہ کرتے ھوئے دونوں لڑکوں، جن کی عمریں بالترتیب 7 اور 5 سال تھی، کو اتنا زدوکوب کیا کہ ان میں سے ایک موقعہ پر ھی ھلاک ھوگیا۔ ایک ماں اپنے سامنے اپنی اولاد کے ساتھ یہ سب ھوتا کیسے دیکھ سکتی تھی، پہلے تو وہ بس رو رو کر اور چیخ کر خدا اور رسول کا واسطہ دے کر منّتیں کرتی رھی، لیکن جب دیکھا کہ اسکے جگر کا ٹکڑا اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رھا ھے تو وہ خونخوار ھوکر ایک کارندے پر پل پڑی اور پاس پڑی ایک لکڑی سے اس پر حملہ کردیا۔

.

ایک پہلوان نما بدمعاش کا ایک چھڑی سے بھلا کیا بگڑنا تھا، اس نے اسی چھڑی سے اس مظلوم عورت کی بھی پٹائی کردی۔

چوھدریوں کے سونے کا وقت تھا اور اس عورت کا جرم یہ تھا کہ اس نےاپنی چیخ و پکار سے انکو سوتے سے بیدار کردیا تھا، انکی نیند خراب کردی تھی، یہ ایسا بھیانک جرم تھا جسکی پاداش میں اس عورت کو 7 سال کے بیٹے اور 2 سال کی بیٹی سمیت کال کوٹھری میں ڈال دیا گیا۔ اور اندھیر نگری چوپٹ راج کے مصداق میرے 5 سالہ مظلوم بیٹے کے قتل کا پرچہ مجھ پر اور میرے بڑے بیٹے پر کٹوادیا گیا۔ اب پولس کے ریکارڈز میں میں اپنے ھی بیٹے کا قاتل اور مفرور تھا اور گاؤں کے جرگے نے میری فیملی یعنی ایک قاتل کی فیملی کے مکمّل بائکاٹ کا اعلان کردیا تھا، ظاھر ھے جرگے کا سرپرست خود چوھدری دلاور تھا۔

ایک طرف یہ چوھدری جرگے کی جانب سے میرے خاندان کا سماجی بائکاٹ کرنے کا اعلان کر رھے تھے دوسری جانب ان سے وہ قرضہ واپس مانگا جارھا تھا جو انھوں نے کبھی لیا ھی نہیں تھا اور تیسری جانے وہ قرضہ ادا ناکرنے کی صورت میں چوھدری زندگی بھر انہیں چوھدریوں کی چاکری کرنے کا حکم سنادیا گیا تھا۔

.

مجھے یہ سب باتیں اس وقت پتا چلیں جب میں اپنے بڑے بیٹے کو شھری ڈاکٹر کی سرپرستی میں چھوڑ کر واپس گاؤں کی طرف جارھا تھا اور راستے میں ایک گاوں کے پاس لاری کا ٹائر پنکچر ھونے کی وجہ سے تمام مسافر ایک چائے کے ھوٹل پر بیٹھے تھے۔ وھی اپنے گاؤں کے کچھ لوگوں کو دیکھ کر میں انکی طرف ھی چل پڑا مگر انکا گریز اور مجھے نظرانداز کرنا سمجھ نہیں آیا، بہرحال وہ تو چلے گئے لیکن ایک بوڑھے بابا نے یہ تمام تفصیلات شائد خوف خدا کی وجہ سے بتا دیں یہ شائد اس لیئے کے اب تو چل چلاؤ ھے اب چوھدریوں سے کیا ڈرنا۔

.

یہ تمام حالات جان کر جہاں ایک طرف دل اپنی فیملی کے حالات جان کر خون کے آنسو رونے لگا وھیں اپنی جان کی بھی فکر ھوگئی، میں وھی سے پلٹ کر شھر واپس آگیا اور تمام احوال ڈاکٹر کو بتا کر رونے لگا۔ ڈاکٹر نے بس اتنا کہا کہ جب تک یہ جاگیرداری سیسٹم ھے انسانوں پر ایسے ھی مظالم ھوتے رھیں گے۔ بہرحال نا اسکے بس میں کچھ تھا نا میرے بس میں، رو دھو کر معاملات اللہ کے سپرد کرکے چپ ھوگیا۔ معاش کی فکر ھوئی تو ڈاکٹر نے اپنے کسی جاننے والے سے کہہ سن کر دبئی میں نوکری کا بندوبست کردیا، نوکری کیا تھی بس بڑے سے بنگلے کی چوکیداری تھی، مالکان پاکستان میں سرکاری ملازم تھے اور کالے دھن کو دبئ میں سفید کرتے تھے۔ ڈاکٹر نے میرے بڑے بیٹے مدثر کو خوب پڑھا لکھا کر اپنی طرح ڈاکٹر بنا دیا تھا، مدثر میں آج بھی تعلیم حاصل کرنے، سچ کو جاننے اور ترقی کرنے کی لگن تھی، اپنی تعلیم کے دوران ھی 1995 میں اس نے کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک سیاسی جماعت کی حمایت شروع کردی تھی، اس وقت ایم کیو ایم پر برا وقت تھا، مدثر ایم کیو ایم اور الطاف حسین پر لگائے جانے والے ھر الزام کو یہ کہہ کر رد کردیتا تھا کہ جب ھم پر مظلوم ھوتے ھوئے ھمارے اپنے ھی جانوروں کی طرح مظالم کرسکتے ھیں، میرے باپ پر اپنے ھی بیٹے کے قتل کا الزام لگ سکتا ھے جب کہ اسکا قصور بس اتنا سا تھا کہ وہ اپنے علاقے کے جاگیردار کے علم میں لائے بغیر اپنے بیٹے کو لے کر شھر گیا تھا وہ بھی علاج کا کہہ کر، تو الطاف حسین کا قصور تو بہت بڑا تھا، اس نے تو ان ظالم جاگیرداروں کی تمام پولیں ناصرف کھولی تھیں بلکہ انکے اندیکھے راج کے خلاف علم بغاوت بھی بلند کردی تھی، تو ظاھر سی بات ھے الطاف حسین کے خلاف تو اس سے زیادہ خوفناک آپریشن کی امید کی جاسکتی تھی۔

.

مجھے اپنے بیٹے کی ھر بات سے اس لیئے بھی اتّفاق تھا کیوں کہ میں ٹھہرا چٹا ان پڑھ اور میرا بیٹا ماشاءاللہ کراچی کا نامی گرامی ڈاکٹر ھے، بہت پڑھا لکھا ھے اور اب وہ کسی گاؤں کا نہیں کراچی جیسے پڑھے لکھے شھر کا بابو ھے۔ میں نے بغیر دیکھے ھی الطاف حسین کی حمایت کی ھے، نا میں اس شخص کو جانتا ھوں نا جاننا چاھتا ھوں، میں بس اتنا جانتا ھوں جو شخص بھی ان ظالم جاگیرداروں کو بغیر دیکھے ھی سمجھ رھا ھے وہ کتنا سمجھدار ھوگا، جس نے ان ظالموں سے ٹکر لی ھے وہ کتنا بہادر ھوگا، جس نے ھم لوگوں سے کوئی رشتہ ناتہ نا ھونے کے باوجود ھمارے حقوق کے لیئے جدوجہد کی ھے وہ ھم سے کتنا پیار کرتا ھوگا، میں اپنے بیٹے میں سمجھداری، سلجھاؤ اور حق کے لیئے لڑنے کی تڑپ دیکھ کر اندازہ کرسکتا ھوں کہ انسان میں اسکی صحبت کا اثر لازمی آتا ھے وہ جس تنظیم میں ھے اس اور جن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ھے وہ یقینا” قابل ستائش ھیں۔

.

ایک طرف مجھے خوشی ھے کہ میرا بیٹا پڑھ لکھ گیا اور اسکا خواب پورا ھوا، دوسری طرف دل میں شدید چبھن سی ھے کہ ھم دونوں باپ بیٹے بار بار کی کوششوں کے باوجود ابھی تک اپنے خاندان کو ان ظالموں کے چنگل سے چھڑانے میں ناکام ھیں، 25 سال بیت چکے ھیں، کراچی میں مدثر کے 4 بچّے ھیں لیکن میں آج تک اپنے تینوں چھوٹے معصوم بچّوں کی صورتیں نہیں بھولا، ایک طالموں کے تشدّد کا شکار ھوکر اللہ کو پیارا ھوگیا، اس سے بڑا آج بھی زنجیروں میں جکڑا جاگیردار کی چاکری کر رھا ھے، سب سے چھوٹی بیٹی جو اس وقت صرف 2 سال کی تھی آج جوان ھوچکی ھے، چوھدری کی حویلی میں ھی چاکری کرتی ھے، دل غم سے اس وقت بھر جاتا ھے جب چوھدریوں کے غلیظ نظریں اور عیّاش صفت طبیعت یاد آتی ھے، دل رو رو کر دعا کرتا ھے اللہ میری بیٹی کی عزّت کی حفاظت کرنا۔

.

ابھی مدثر بتا رھا تھا کہ ایم کیو ایم پنجاب میں بھی آگئی ھے تو دل میں ایک دم سے جوش سا بھرگیا کہ کاش جلد از جلد وہ ھمارے گاؤں تک بھی پہنچ جایئں تاکہ میں اپنی زندگی میں کم از کم اپنی بیوی اور بچّوں کو دیکھ تو سکوں اور میری روح کی پیاس تو بجھے۔ کوئی مانے یا نا مانے میں ھردم الطاف حسین کے لیئے دعا کرتا رھتا ھوں کہ یااللہ میری عمر بھی اس شخص کودےدے جو تیرے بندوں کے لیئے اپنا سب کچھ قربان کر کے اپنی جان کی پروہ کیئے بغیر دن رات جدوجہد کررھا ھے۔

اپنی کہانی سنا کر وہ میری طرف متّوجہ ھوا، بیٹا آپ میرا ایک پیغام اپنے قائد تک پہنچادیں وہ یہ کہ جتنی جلد ھوسکے آپ پاکستان کی غریب عوام کو ان ظالم جاگیردارون کے تسلّط سے نجات دلایئں، ایسا نا ھوغریبوں کا خون چوس چوس کے یہ خان آشام بھیڑئے اتنے طاقتور ھوجایئں کہ پھر صرف وھی ھوں اور غریب نا ھوں سب کچھ ختم ھوجائے۔

.

میں اتنی دیر سے چپ بیٹھا اسکی آپ بیتی سن رھا تھا، کہیں بھی ایک لمحے کے لیئے بھی یہ خیال تک نا آیا کہ یہ کوئی نئی کہانی ھے، ھر ھر بات پر ھر جملے پر قائدتحریک الطاف حسین کی فھم و فراست سے بھرپور تقریریں زھن میں آرھی تھیں، بابا عبدالقادر کی آنکھوں کی چمک اس امید کا پتا دے رھی تھیں جو اسے ایم کیو ایم سے تھی، اسکی کہاںی سن کر یہی لگ رھا تھا کہ یہ وھی باتیں توھیں جو قائد ھمیں بتایا کرتے تھے، ظالم جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، خانوں اور نوابوں کی اصلیت تو قائد ھمیں 1985-86 میں ھی بتا چکے ھیں۔ اب وھاں کے مقامی بھی ھمیں وھی باتیں بتا رھے ھیں جو ھم قائد سے سنتے رھتے تھے۔

.

رات کافی ڈھل چکی تھی اور ھوٹل والے شائد ھم دونوں کے ھی اٹھنے کا انتظار کر رھے تھے، میں زھن پر ایک بوجھ سا لے کر بابا عبدالقادر سے رخصت توھوگیا لیکن اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ یہ کہانی میں لازما” اپنے دوستوں سے شئر کروںگا، کچھ کے لیئے یہ محض ایک کہانی ھوگی، لیکن سبق حاصل کرنے والوں کے لیئے اس میں ایک سبق ھے، اپنے قائد پر بھرپور اعتماد رکھنے کا درس ھے، ظلم کے خلاف ڈٹ کر لڑنے کا عزم ھے، جہاں ایک طرف ھمارے ساتھی پنجاب میں اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں مصروف ھیں اور حالات کی سختی کا سامنا کر رھے ھیں، وھیں دوسری طرف وہ مظلوم عوام ھے جو بنادیکھے ھی قائدتحریک کی شخصیت سے متّاثر ھے ان کی سچّائی سے متّاثر ھے، وہ عوام پنجاب میں حق پرستوں کے قافلے کی منتظر ھے کہ قائد کے سپاھی آئیں اور ظالموں سے ان غریبوں کو نجات دلایئں۔

.

سلام ھے میرے ساتھیوں پر اور سلام ھے پنجاب کی عوام پر جو ان حالات میں بھی حق اور سچ کا ساتھ دے رھے ھیں!

.

وہ اکیلا ھی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے قافلہ بنتا گیا

.

.

.