بندر کی دوڑ دھوپ:

کسی جنگل میں ایک شیر حکومت کرتا تھا، بہادر شیر نا صرف اپنی عوام کی حفاظت کرتا تھا بلکہ انکے بیچ انصاف بھی قائم رکھتا تھا، انکے تمام حقوق کا خیال رکھتا تھا، رعایا نہ صرف اپنے بادشاہ سے خوش تھی بلکہ آس پاس کی جنگلوں میں بھی اس بہادر شیر کی بڑی عزّت تھی۔ اسکی یہ شھرت اور عزّت پڑوس کے جنگلوں کے لومڑیوں، بھیڑیوں اور گیدڑوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ وجہ اسکی یہ تھی کہ پڑوس کے جنگلوں میں میلوں تک کوئی شیر نا تھا، اور ظالم اور چالباز لومڑیوں، پھیڑیوں اور گیدڑوں نے آپس میں اتّحاد کر کے جنگل کے تمام جانوروں کو اپنا غلام بنایا ھوا تھا، اور یہ چاھتے تھے کہ اس جنگل میں بھی شیر کی جگہ ان کی حکومت ھو! اپنی حکومت کرنے اور عوام کو غلام بنانے کی ناپاک خواھشات کے تحت دن رات سازیشیں تیّار کرتے رھتے تھے۔ ایک دن ان چالباز لومڑیوں، بھیڑیوں اور گیدڑوں نے شیر کے جنگل سے کچھ بندروں کو اپنا ھمنوا بنالیا۔ بندروں نے اس جنگل کے چوھوں اور سانپوں کے ساتھ مل کر شیر کے خلاف سازش تیار کی اور مل کر شیر کے پاس گئے کہ اب حکمرانی کا حق کسی دوسرے جانور کو ملنا چاھیئے۔ شیر اپنی انصاف پسند طبیعت کی وجہ سے مان گیا کہ جب رعایا ھی کوئی دوسرا حکمران چاھتی ھے تو ٹھیک ھے۔ چناچہ اس نے فیصلہ تمام جانوروں پر چھوڑدیا اور سازشی جانوروں نے “بندر” کو اپنا بادشاہ بنالیا!

چوںکہ رعایا کی حفاظت اور دیکھ بھال بادشاہ کی زمّہ داری ھوتی ھے، چناجہ بندر کو حفاظت کی زمّہ داری سونپی گئی۔ بندر سارا دن درختوں پر لٹکتا رھتا تھا اور جنگل کے جو بھی پھل یا وسائل تھے اپنی فطرت کے مطابق برباد کرتا رھتا تھا۔

ایک دن جنگل میں شکاری آگئے اور کچھ ھرن اور کمزور جانوروں کے بچّے پکڑ کر لے گئے، جاتے جاتے کچھ درخت بھی کاٹ گئے جس سے پرندوں کے گھونسلے اور انڈے بچّے برباد ھوگئے۔ تمام جانور شکایت لے کر نئے بادشاہ یعنی “بندر” کے پاس آئے اور اپنی داستان غم سنائی۔ بندر نے سب کو تسلّی دی کہ تم لوگ جاؤ میں کچھ سوچتا ھوں۔ بندر بیچارہ کر بھی کیا سکتا تھا، جھوٹی تسلّی دے کر پھر درخت پر چڑھ گیا۔

اگلے دن پھر شکاری آئے اور کمزور جانوروں کے بچّے پکڑ کر لے گئے، جس نے مزاحمت کی اسکو اپنی شکاری بندوق کا نشانہ بنادیا! شکاریوں کو بھی اندازہ ھوگیا تھا کہ اب اس جنگل میں شیر کے بجائے کسی کم نسل جانور کی حکمرانی ھے۔ جب یہ سلسلہ حد سے گزرگیا تو تمام جانوروں نے “جرگہ” طلب کیا اور اس میں “پنچائت” کے سامنے یہ مثال رکھ دی کہ شیر کے زمانے میں پوری حفاظت ھوتی تھی اور رعایا کو بھرپور انصاف ملتا تھا، لیکن جب سے بندر بادشاہ بنا ھے شکاری آئے روز ھمارے بچّوں کا شکار کر رھے ھیں، بعض خبریں یہ بھی ھیں کہ پڑوس کے جنگل کے لومڑی، بھیڑیئے اور گیدڑ بھی اب اپنے جنگل کے ساتھ ساتھ ھمارے جنگل کے کمزور جانوروں کا شکار کر رھے ھیں۔

ابھی یہ جرگہ جاری ھی تھا کہ شکاری پھر جنگل میں آگئے اور جانوروں کا شکار کرنے لگے، دوسری طرف پڑوس کے جنگل کے لومڑی، بھیڑیئے اور گیدڑ جو اسی انتظار میں تھے کہ کب اس جنگل میں لاقانونیت ھو اور کب وہ اپنا شبخون ماریں، انکو آج موقعہ مل گیا اور انھوں نے چن چن کر کمزور جانوروں کے بچّے شکار کرنا شروع کردیئے! پورے جنگل میں بھگدڑ مچ گیئ، جانوروں نے مطالبہ کردیا کہ “یا تو شیر کو دوبارہ بادشاہ بنایا جائے یا بندر ھماری حفاظت کا معقول انتظام کرے۔

یہ صورت حال دیکھ کر بندر نے کہا کہ میں کچھ کرتا ھوں اور لگا درختوں پر چھلانگیں لگانے۔ اس درخت سے اس درخت، کبھی اوپر کبھی نیچے، کبھی آوازیں نکالے کبھی چیخے چلّائے۔ بادشاہ کو یہ سب کرتے دیکھ کر خوشامدی چوھے بھی اچھلنے اور شور کرنے لگے۔ جنگل کے تمام جانور حیران اور پریشان ایک طرف شکاری ھمارے بچّوں کا شکار کر رھے ھیں دوسری طرف پڑوس کے جنگل کے درندے مار رھے ھیں اور بادشاہ سلامت اور انکے چمچے صرف شور ھی کر رھے ھیں، آخر یہ ماجرا کیا ھے۔
بالآخر ھوا وھی جو ھونا تھا، شکاری اور پڑوس کے جنگل کے درندے اپنا کام کر کے چلے گئے اور بندر قلابازیاں ھی کھاتا رھا اور اسکے چمچے شور کرتے اور تالیاں پیٹتے ھی رھے۔ جانور بہت ناراض تھے اور جاننا چاھتے تھے کہ آخر بندر نے ایسا کیوں کیا اور ھمارے بچّوں کی حفاظت کیوں نہیں کی?سب نے یک زبان ھوکر بندر سے یہ سوال کیا کہ بادشاہ سلامت شکاری اور پڑوس کے جنگل کے درندے ھمارے بچّوں کا شکار کرتے رھے اور آپ نے کیوں کچھ نہیں کیا?تو بندر نے جواب دیا:

” میں کیا کرتا میں نے تو بہت دوڑ دھوپ کی تھی تمھارے بچّوں کو بچانے کے لیئے! ”
—————————————————————————————————

اگر ھم زرا سا غور کریں تو پہچان سکتے ھیں، یہ جنگل کوئی اور نہیں کراچی ھے! آج کے حکمران بندر جن کی دوڑ دھوپ انکے اخباری بیانات تک ھی محدود ھے، انکو سازشی پٹیاں پڑھانے والے پڑوس کے جنگل کے بزدل لومڑی، بھیڑیئے اور گیدڑ ھیں جو کراچی کے ساتھ ساتھ اپنے ھی جنگل کی رعایا کا بے دریغ خون بہا رھے ھیں، اور انکی احمقانہ حرکتوں پر تالیاں پیٹنے ولے اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والے بھانڈ دراصل نام نہاد، سوشل ورکرز اور زرد صحافت کے علمبردار بکاؤ صحافی ھیں!

باضمیر اور باکردار سوشل ورکر، صحافی اور معاشرے کے دانشور اس وقت وہ کمزور جانور بن چکے ھیں جن کے بچوں کو بندر بادشاہ کے آقالومڑی، بھیڑیئے اور گیدڑ اور شکاری ھر روز شکار کر رھے ھیں!
.
.
.

Advertisements

3 thoughts on “بندر کی دوڑ دھوپ:

  1. TaHsiN

    ham sey achey tu jungle ki wo janwar hi hain ke atleast apney bandar badshah sey sawal to pocha…mujh samait porey mulk ki awaz be basi aur majboori ki tasweer baney bethey hain aur haath to dor ki bat zaban bhi chala nahi saktey, jis ka jesa dil chah raha he hamain ullo bana kar chala jata he, ghalti bhi hamari he, ham ullo ban q rahey hain.
    Very well written, keep up the good work.

    Reply

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s